اَجَعَلْتُمْ
سِقَایَةَ
الْحَآجِّ
وَعِمَارَةَ
الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ
كَمَنْ
اٰمَنَ
بِاللّٰهِ
وَالْیَوْمِ
الْاٰخِرِ
وَجٰهَدَ
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ؕ
لَا
یَسْتَوٗنَ
عِنْدَ
اللّٰهِ ؕ
وَاللّٰهُ
لَا
یَهْدِی
الْقَوْمَ
الظّٰلِمِیْنَ
۟ۘ
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد رکھنے کو برابر کردیا ہے اس شخص (کے اعمال) کے جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اس نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں ؟) یہ برابر نہیں ہوسکتے اللہ کے نزدیک۔ اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت بہتر ہے ایمان و جہاد سے۔ ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔
اللہ نے ان کا فخر و غرور اور حق سے تکبر اور
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے