وَاِذَا
مَاۤ
اُنْزِلَتْ
سُوْرَةٌ
نَّظَرَ
بَعْضُهُمْ
اِلٰی
بَعْضٍ ؕ
هَلْ
یَرٰىكُمْ
مِّنْ
اَحَدٍ
ثُمَّ
انْصَرَفُوْا ؕ
صَرَفَ
اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ
بِاَنَّهُمْ
قَوْمٌ
لَّا
یَفْقَهُوْنَ
۟
اور جب کوئی سورہ اتاری جاتی ہے تو یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کوئی دیکھتا تو نہیں ، پھر چل دیتے ہیں اللہ نے ان کے دلوں کو پھیردیا اس وجہ سے کہ یہ سمجھ سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭…
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ ب
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭…
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔