وَلَا
یُنْفِقُوْنَ
نَفَقَةً
صَغِیْرَةً
وَّلَا
كَبِیْرَةً
وَّلَا
یَقْطَعُوْنَ
وَادِیًا
اِلَّا
كُتِبَ
لَهُمْ
لِیَجْزِیَهُمُ
اللّٰهُ
اَحْسَنَ
مَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
اور جو چھوٹا یا بڑا خرچ انھوں نے کیا اور جو میدان انھوں نے طے کيے، وہ سب ان کے ليے لکھا گیا تاکہ اللہ ان کے عمل کا اچھے سے اچھا بدلہ دے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے ٭٭…
یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ نکتہ یاد رہے کہ اوپر کا کام ذکر کر کے اجر کے بیان میں لفظ «بہ» لائے تھے اور یہاں نہیں لائے اس لیے کہ وہ غیر اختیار افعال تھے اور یہ خود ان
مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے ٭٭…
یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جات