لَقَدْ
تَّابَ
اللّٰهُ
عَلَی
النَّبِیِّ
وَالْمُهٰجِرِیْنَ
وَالْاَنْصَارِ
الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْهُ
فِیْ
سَاعَةِ
الْعُسْرَةِ
مِنْ
بَعْدِ
مَا
كَادَ
یَزِیْغُ
قُلُوْبُ
فَرِیْقٍ
مِّنْهُمْ
ثُمَّ
تَابَ
عَلَیْهِمْ ؕ
اِنَّهٗ
بِهِمْ
رَءُوْفٌ
رَّحِیْمٌ
۟ۙ
اللہ نے نبی پر اور مہاجرین و انصار پر توجہ فرمائی جنھوں نے تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی بے شک اللہ ان پر مہربان ہے، رحم کرنے والا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جنگ تبوک کے بارے میں اتری ہے اس جنگ میں جانے کے وقت سال بھی قحط کا تھا، گرمیوں کا موسم تھا، کھانے پینے کی کمی تھی، راستوں میں پانی نہ تھا۔ شام کے ملک تک کا دور دراز کا سفر تھا۔ سامان رسد کی اتنی کمی کہ دو دو آدمیوں میں ایک ایک کھجور بٹتی تھی۔ پھر تو یہ ہو
باب…
مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جنگ تبوک کے بارے میں اتری ہے اس جنگ میں جانے کے وقت سال بھی قحط کا تھا، گرمیوں کا موسم تھا، کھانے پینے کی