یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
تُوْبُوْۤا
اِلَی
اللّٰهِ
تَوْبَةً
نَّصُوْحًا ؕ
عَسٰی
رَبُّكُمْ
اَنْ
یُّكَفِّرَ
عَنْكُمْ
سَیِّاٰتِكُمْ
وَیُدْخِلَكُمْ
جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ ۙ
یَوْمَ
لَا
یُخْزِی
اللّٰهُ
النَّبِیَّ
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مَعَهٗ ۚ
نُوْرُهُمْ
یَسْعٰی
بَیْنَ
اَیْدِیْهِمْ
وَبِاَیْمَانِهِمْ
یَقُوْلُوْنَ
رَبَّنَاۤ
اَتْمِمْ
لَنَا
نُوْرَنَا
وَاغْفِرْ
لَنَا ۚ
اِنَّكَ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟
اے ایمان والو، اللہ کے آگے سچی توبہ کروامید ہے کہ تمھارا رب تمھارے گناہ معاف کردے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جس دن اللہ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گاان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہی ہوگی، وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، ہمارے لیے ہماری روشنی کو کامل کردے اور ہماری مغفرت فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
خالص توبہ ٭٭…
سلف فرماتے ہیں ”توبہ خالص یہ ہے کہ گناہ کو اس وقت چھوڑ دے، جو ہو چکا ہے اس پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، اور اگر گناہ میں کسی انسان کا حق ہے تو چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ حق باقاعدہ ادا کر دے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”نادم ہونا بھی توبہ کرنا ہے“ ۔
خالص توبہ ٭٭…
سلف فرماتے ہیں ”توبہ خالص یہ ہے کہ گناہ کو اس وقت چھوڑ دے، جو ہو چکا ہے اس پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، اور اگر گنا