التحريم 66:2 قد فرض الله لكم تحلة ايمانكم والله مولاكم وهو العليم الحكيم ٢
قَدْ
فَرَضَ
اللّٰهُ
لَكُمْ
تَحِلَّةَ
اَیْمَانِكُمْ ۚ
وَاللّٰهُ
مَوْلٰىكُمْ ۚ
وَهُوَ
الْعَلِیْمُ
الْحَكِیْمُ
۟
اللہ نے تم لوگوں کے لیے تمھاری قسموں کا کھولنا مقرر کردیا ہے،اور اللہ تمھارا کارساز ہے، اور وہ جاننے والا،حکمت والا ہےبیویوں کے پیدا کردہ بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں یہ قسم کھالی کہ میں شہد نہیں کھاؤں گا مگر پیغمبر کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ بن جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ شرعی طریقہ کے مطابق کفارہ ادا کرکے اپنی قسم کو توڑ دیں اور شہد نہ کھانے کے عہد سے اپنے آپ کو آزاد کرلیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آپ کے امتی اس کو تقوی کا معیار سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز کرنے لگیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭…
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائ
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭…
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے