الشورى 42:8 ولو شاء الله لجعلهم امة واحدة ولاكن يدخل من يشاء في رحمته والظالمون ما لهم من ولي ولا نصير ٨
وَلَوْ
شَآءَ
اللّٰهُ
لَجَعَلَهُمْ
اُمَّةً
وَّاحِدَةً
وَّلٰكِنْ
یُّدْخِلُ
مَنْ
یَّشَآءُ
فِیْ
رَحْمَتِهٖ ؕ
وَالظّٰلِمُوْنَ
مَا
لَهُمْ
مِّنْ
وَّلِیٍّ
وَّلَا
نَصِیْرٍ
۟
اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اللہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے۔ اور جو ظالم (کافر و مشرک) ہوں گے ان کے لیے نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قیامت کا آنا یقینی ہے ٭٭…
یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر د
قیامت کا آنا یقینی ہے ٭٭…
یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل