فذوقوا بما نسيتم لقاء يومكم هاذا انا نسيناكم وذوقوا عذاب الخلد بما كنتم تعملون ١٤
فَذُوقُوا۟ بِمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَآ إِنَّا نَسِينَـٰكُمْ ۖ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ١٤

۟

تو اب چکھو مزہ (آگ کا) اس لیے کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اب ہم نے بھی تمہیں نظر انداز کردیا ہے پس تم چکھو ہمیشگی کا عذاب اپنے ان کرتوتوں کے سبب جو تم کرتے رہے ہو۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
Notes placeholders