وَاِذْ
قَالَ
مُوْسٰی
لِقَوْمِهٖ
یٰقَوْمِ
لِمَ
تُؤْذُوْنَنِیْ
وَقَدْ
تَّعْلَمُوْنَ
اَنِّیْ
رَسُوْلُ
اللّٰهِ
اِلَیْكُمْ ؕ
فَلَمَّا
زَاغُوْۤا
اَزَاغَ
اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
لَا
یَهْدِی
الْقَوْمَ
الْفٰسِقِیْنَ
۟
اور یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم کیوں مجھے ایذا دے رہے ہو ؟ جبکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پھر جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ اور اللہ فاسقوں کو (زبردستی) ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کلیم اللہ موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میری رسالت کی سچائی جانتے ہو پھر کیوں میرے درپے آزار ہو رہے ہو؟ “ اس میں گویا ایک طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جاتی ہے، چنانچ
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کلیم اللہ موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا