وَلَوْ
اَنَّ
قُرْاٰنًا
سُیِّرَتْ
بِهِ
الْجِبَالُ
اَوْ
قُطِّعَتْ
بِهِ
الْاَرْضُ
اَوْ
كُلِّمَ
بِهِ
الْمَوْتٰی ؕ
بَلْ
لِّلّٰهِ
الْاَمْرُ
جَمِیْعًا ؕ
اَفَلَمْ
یَایْـَٔسِ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اَنْ
لَّوْ
یَشَآءُ
اللّٰهُ
لَهَدَی
النَّاسَ
جَمِیْعًا ؕ
وَلَا
یَزَالُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
تُصِیْبُهُمْ
بِمَا
صَنَعُوْا
قَارِعَةٌ
اَوْ
تَحُلُّ
قَرِیْبًا
مِّنْ
دَارِهِمْ
حَتّٰی
یَاْتِیَ
وَعْدُ
اللّٰهِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
لَا
یُخْلِفُ
الْمِیْعَادَ
۟۠
اور اگر ہوتا کوئی ایسا قرآن جس کے ذریعے سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے یا کلام کرتے اس کے ذریعے مردے (تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے) بلکہ اختیار توکل کا کل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کیا اہل ایمان اس پر مطمئن نہیں ہوجاتے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ہدایت دے دیتا اور جو کافر ہیں ان کو برابر پہنچتی رہے گی ان کے اعمال کے سبب کوئی نہ کوئی آفت یا ان کے گھروں کے قریب اترتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے یقیناً اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قرآن حکیم کی صفات جلیلہ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اس پاک کتاب قرآن کریم کی تعریفیں بیان فرما رہا ہے اگر ” سابقہ کتابوں میں کسی کتاب کے ساتھ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جانے والے اور زمین پھٹ جانے والی اور مردے جی اٹھنے والے ہوتے تو یہ قرآن جو تمام سابقہ کتابوں سے بڑھ چڑھ کر ہے ان سب سے زیادہ اس بات کا اہل تھا اس میں تو
قرآن حکیم کی صفات جلیلہ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اس پاک کتاب قرآن کریم کی تعریفیں بیان فرما رہا ہے اگر ” سابقہ کتابوں میں کسی کتاب کے ساتھ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جا