وَعَدَ
اللّٰهُ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مِنْكُمْ
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ
فِی
الْاَرْضِ
كَمَا
اسْتَخْلَفَ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ ۪
وَلَیُمَكِّنَنَّ
لَهُمْ
دِیْنَهُمُ
الَّذِی
ارْتَضٰی
لَهُمْ
وَلَیُبَدِّلَنَّهُمْ
مِّنْ
بَعْدِ
خَوْفِهِمْ
اَمْنًا ؕ
یَعْبُدُوْنَنِیْ
لَا
یُشْرِكُوْنَ
بِیْ
شَیْـًٔا ؕ
وَمَنْ
كَفَرَ
بَعْدَ
ذٰلِكَ
فَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْفٰسِقُوْنَ
۟
اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا، جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اقتدار دیا تھا اور ان کے ليے ان کے دین کو جما دے گا جس کو ان کے ليے پسند کیا ہے اور ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
عروج اسلام لازم ہے ٭٭…
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ فرما رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو زمین کا مالک بنا دے گا، لوگوں کا سردار بنا دے گا، ملک ان کی وجہ سے آباد ہوگا، بندگان رب ان سے دل شاد ہوں گے۔ آج یہ لوگوں سے لرزاں وترساں ہیں کل یہ باامن و اطمینان ہوں گے،
عروج اسلام لازم ہے ٭٭…
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ فرما رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو زمین کا مالک بنا دے