اِنَّمَا
كَانَ
قَوْلَ
الْمُؤْمِنِیْنَ
اِذَا
دُعُوْۤا
اِلَی
اللّٰهِ
وَرَسُوْلِهٖ
لِیَحْكُمَ
بَیْنَهُمْ
اَنْ
یَّقُوْلُوْا
سَمِعْنَا
وَاَطَعْنَا ؕ
وَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَ
۟
ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ ” وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں “۔
عبادہ بن صامت
باب…
پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ ” وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآ