النور 24:31 وقل للمومنات يغضضن من ابصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن الا ما ظهر منها وليضربن بخمرهن على جيوبهن ولا يبدين زينتهن الا لبعولتهن او ابايهن او اباء بعولتهن او ابنايهن او ابناء بعولتهن او اخوانهن او بني اخوانهن او بني اخواتهن او نسايهن او ما ملكت ايمانهن او التابعين غير اولي الاربة من الرجال او الطفل الذين لم يظهروا على عورات النساء ولا يضربن بارجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن وتوبوا الى الله جميعا ايه المومنون لعلكم تفلحون ٣١
وَقُلْ
لِّلْمُؤْمِنٰتِ
یَغْضُضْنَ
مِنْ
اَبْصَارِهِنَّ
وَیَحْفَظْنَ
فُرُوْجَهُنَّ
وَلَا
یُبْدِیْنَ
زِیْنَتَهُنَّ
اِلَّا
مَا
ظَهَرَ
مِنْهَا
وَلْیَضْرِبْنَ
بِخُمُرِهِنَّ
عَلٰی
جُیُوْبِهِنَّ ۪
وَلَا
یُبْدِیْنَ
زِیْنَتَهُنَّ
اِلَّا
لِبُعُوْلَتِهِنَّ
اَوْ
اٰبَآىِٕهِنَّ
اَوْ
اٰبَآءِ
بُعُوْلَتِهِنَّ
اَوْ
اَبْنَآىِٕهِنَّ
اَوْ
اَبْنَآءِ
بُعُوْلَتِهِنَّ
اَوْ
اِخْوَانِهِنَّ
اَوْ
بَنِیْۤ
اِخْوَانِهِنَّ
اَوْ
بَنِیْۤ
اَخَوٰتِهِنَّ
اَوْ
نِسَآىِٕهِنَّ
اَوْ
مَا
مَلَكَتْ
اَیْمَانُهُنَّ
اَوِ
التّٰبِعِیْنَ
غَیْرِ
اُولِی
الْاِرْبَةِ
مِنَ
الرِّجَالِ
اَوِ
الطِّفْلِ
الَّذِیْنَ
لَمْ
یَظْهَرُوْا
عَلٰی
عَوْرٰتِ
النِّسَآءِ ۪
وَلَا
یَضْرِبْنَ
بِاَرْجُلِهِنَّ
لِیُعْلَمَ
مَا
یُخْفِیْنَ
مِنْ
زِیْنَتِهِنَّ ؕ
وَتُوْبُوْۤا
اِلَی
اللّٰهِ
جَمِیْعًا
اَیُّهَ
الْمُؤْمِنُوْنَ
لَعَلَّكُمْ
تُفْلِحُوْنَ
۟
اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ، مگر جواس میں سے ظاہر ہوجائے اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں پر یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی بہنوں کے بیٹو ں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے مملوک پر یا زیردست مردوں پر جو کچھ غرض نہیں رکھتے یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے ابھی ناواقف ہوں وہ اپنے پاؤں زور سے نہ ماریں کہ ان کی مخفی زینت معلوم ہوجائے، اور اے ایمان والو، تم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مومنہ عورتوں کو تاکید ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ مومنہ عورتوں کو چند حکم دیتا ہے تاکہ ان کے باغیرت مردوں کو تسکین ہو اور جاہلیت کی بری رسمیں نکل جائیں۔ مروی ہے کہ اسماء بنت مرثد رضی اللہ عنہا کا مکان بنوحارثہ کے محلے میں تھا، ان کے پاس عورتیں آتی تھیں اور دستور کے مطابق اپنے پیروں کے زیور، سینے اور بال کھول
مومنہ عورتوں کو تاکید ٭٭…
یہاں اللہ تعالیٰ مومنہ عورتوں کو چند حکم دیتا ہے تاکہ ان کے باغیرت مردوں کو تسکین ہو اور جاہلیت کی بری رسمیں نکل جائیں۔ مروی ہ