وَلَا
تَتَمَنَّوْا
مَا
فَضَّلَ
اللّٰهُ
بِهٖ
بَعْضَكُمْ
عَلٰی
بَعْضٍ ؕ
لِلرِّجَالِ
نَصِیْبٌ
مِّمَّا
اكْتَسَبُوْا ؕ
وَلِلنِّسَآءِ
نَصِیْبٌ
مِّمَّا
اكْتَسَبْنَ ؕ
وَسْـَٔلُوا
اللّٰهَ
مِنْ
فَضْلِهٖ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِكُلِّ
شَیْءٍ
عَلِیْمًا
۟
اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دُوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنّا نہ کرو۔ جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصّہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصّہ۔ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دُعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جائز رشک اور جواب باصواب ٭٭…
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں اس ثواب سے محروم ہیں، اسی طرح میراث میں بھی ہمیں بہ نسبت مردوں کے آدھا ملتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي:3022،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ اس کے
جائز رشک اور جواب باصواب ٭٭…
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں اس ثواب سے محروم ہیں، اسی