وَاِنْ
اَرَدْتُّمُ
اسْتِبْدَالَ
زَوْجٍ
مَّكَانَ
زَوْجٍ ۙ
وَّاٰتَیْتُمْ
اِحْدٰىهُنَّ
قِنْطَارًا
فَلَا
تَاْخُذُوْا
مِنْهُ
شَیْـًٔا ؕ
اَتَاْخُذُوْنَهٗ
بُهْتَانًا
وَّاِثْمًا
مُّبِیْنًا
۟
اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلناچاہو اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو کیا تم اس کو بہتان لگاکر اور صریح ظلم کرکے واپس لو گے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے می
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے