النساء 4:19 يا ايها الذين امنوا لا يحل لكم ان ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما اتيتموهن الا ان ياتين بفاحشة مبينة وعاشروهن بالمعروف فان كرهتموهن فعسى ان تكرهوا شييا ويجعل الله فيه خيرا كثيرا ١٩
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
لَا
یَحِلُّ
لَكُمْ
اَنْ
تَرِثُوا
النِّسَآءَ
كَرْهًا ؕ
وَلَا
تَعْضُلُوْهُنَّ
لِتَذْهَبُوْا
بِبَعْضِ
مَاۤ
اٰتَیْتُمُوْهُنَّ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّاْتِیْنَ
بِفَاحِشَةٍ
مُّبَیِّنَةٍ ۚ
وَعَاشِرُوْهُنَّ
بِالْمَعْرُوْفِ ۚ
فَاِنْ
كَرِهْتُمُوْهُنَّ
فَعَسٰۤی
اَنْ
تَكْرَهُوْا
شَیْـًٔا
وَّیَجْعَلَ
اللّٰهُ
فِیْهِ
خَیْرًا
كَثِیْرًا
۟
اے ایمان والو، تمھارے ليے جائز نہیں کہ تم عورتوں کو زبردستی اپنی میراث میں لے لو اور نہ ان کو اس غرض سے روکے رکھوکہ تم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ ان سے لے لو، مگر اس صورت میں کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کریں اور ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو اگر وہ تم کوناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمھارے ليے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے می
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے