النساء 4:160 فبظلم من الذين هادوا حرمنا عليهم طيبات احلت لهم وبصدهم عن سبيل الله كثيرا ١٦٠
فَبِظُلْمٍ
مِّنَ
الَّذِیْنَ
هَادُوْا
حَرَّمْنَا
عَلَیْهِمْ
طَیِّبٰتٍ
اُحِلَّتْ
لَهُمْ
وَبِصَدِّهِمْ
عَنْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
كَثِیْرًا
۟ۙ
توبسبب ان یہودی بن جانے والوں کی ظالمانہ روش کے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں بھی حرام کردیں جو اصلاً ان کے لیے حلال تھیں اور بسبب اس کے کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے (خود رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی) روکتے ہیں۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام ٭٭…
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کر لیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے،
دوسرا یہ کہ یہ حرمت شر
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام ٭٭…
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپ