یَسْـَٔلُكَ
اَهْلُ
الْكِتٰبِ
اَنْ
تُنَزِّلَ
عَلَیْهِمْ
كِتٰبًا
مِّنَ
السَّمَآءِ
فَقَدْ
سَاَلُوْا
مُوْسٰۤی
اَكْبَرَ
مِنْ
ذٰلِكَ
فَقَالُوْۤا
اَرِنَا
اللّٰهَ
جَهْرَةً
فَاَخَذَتْهُمُ
الصّٰعِقَةُ
بِظُلْمِهِمْ ۚ
ثُمَّ
اتَّخَذُوا
الْعِجْلَ
مِنْ
بَعْدِ
مَا
جَآءَتْهُمُ
الْبَیِّنٰتُ
فَعَفَوْنَا
عَنْ
ذٰلِكَ ۚ
وَاٰتَیْنَا
مُوْسٰی
سُلْطٰنًا
مُّبِیْنًا
۟
اہل کتاب تم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ تم ان پر آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ پس موسیٰ سے وہ اس سے بھی بڑی چیز کا مطالبہ کرچکے ہیں انھوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کو بالکل سامنے دکھادو پس ان کی اس زیادتی کے باعث ان پر بجلی آپڑی پھر کھلی نشانی آجانے کے بعد انھوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا پھر ہم نے اس سے درگزر کیا اور موسیٰ کو ہم نے کھلی حجت عطا کی
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں ٭٭…
یہودیوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے توراۃ ایک ساتھ لکھی ہوئی ہمارے پاس لائے، آپ بھی کوئی آسمانی کتاب پوری لکھی لکھائی لے آیئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ خ
محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں ٭٭…
یہودیوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے تو