اِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ
اللّٰهَ
وَهُوَ
خَادِعُهُمْ ۚ
وَاِذَا
قَامُوْۤا
اِلَی
الصَّلٰوةِ
قَامُوْا
كُسَالٰی ۙ
یُرَآءُوْنَ
النَّاسَ
وَلَا
یَذْكُرُوْنَ
اللّٰهَ
اِلَّا
قَلِیْلًا
۟ؗۙ
منافقین اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالاں کہ اللہ ہی نے ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے اور جب وہ نماز کے ليے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں محض لوگوں کو دکھانے کے ليے اور وہ اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
دو ریوڑ کے درمیان کی بکری ٭٭…
سورۃ البقرہ کے شروع میں بھی «يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ» [2-البقرة:9] اسی مضمون کی گذر چکی ہے، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ یہ کم سمجھ منافق اس اللہ تعالیٰ کے سامنے چالیں چلتے ہیں جو سی
دو ریوڑ کے درمیان کی بکری ٭٭…
سورۃ البقرہ کے شروع میں بھی «يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا