لَّذِیْنَ
یَتَرَبَّصُوْنَ
بِكُمْ ۚ
فَاِنْ
كَانَ
لَكُمْ
فَتْحٌ
مِّنَ
اللّٰهِ
قَالُوْۤا
اَلَمْ
نَكُنْ
مَّعَكُمْ ۖؗ
وَاِنْ
كَانَ
لِلْكٰفِرِیْنَ
نَصِیْبٌ ۙ
قَالُوْۤا
اَلَمْ
نَسْتَحْوِذْ
عَلَیْكُمْ
وَنَمْنَعْكُمْ
مِّنَ
الْمُؤْمِنِیْنَ ؕ
فَاللّٰهُ
یَحْكُمُ
بَیْنَكُمْ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ؕ
وَلَنْ
یَّجْعَلَ
اللّٰهُ
لِلْكٰفِرِیْنَ
عَلَی
الْمُؤْمِنِیْنَ
سَبِیْلًا
۟۠
وہ منافق تمھارے ليے انتظار میں رہتے ہیں اگر تم کو اللہ کی طرف سے کوئی فتح حاصل ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے اور اگر منکروں کو کوئی حصہ مل جائے تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمھارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا تو اللہ ہی تم لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ ہرگز منکروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
عمل میں صفر دعویٰ میں اصلی مسلمان ٭٭…
منافقوں کی بد باطنی کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کی بربادی اس کی پستی کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ٹوہ لیتے رہتے ہیں، اگر کسی جہاد میں مسلمان کامیاب و کامران ہو گئے اللہ کی مدد سے یہ غالب آ گئے تو ان کے پیٹ میں گھسنے کے لیے آ آ کر کہتے ہیں کیوں جی ہم بھی تو تمہارے ساتھی ہیں
عمل میں صفر دعویٰ میں اصلی مسلمان ٭٭…
منافقوں کی بد باطنی کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کی بربادی اس کی پستی کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ٹوہ لیتے رہتے ہیں، اگر کسی