وَقَدْ
نَزَّلَ
عَلَیْكُمْ
فِی
الْكِتٰبِ
اَنْ
اِذَا
سَمِعْتُمْ
اٰیٰتِ
اللّٰهِ
یُكْفَرُ
بِهَا
وَیُسْتَهْزَاُ
بِهَا
فَلَا
تَقْعُدُوْا
مَعَهُمْ
حَتّٰی
یَخُوْضُوْا
فِیْ
حَدِیْثٍ
غَیْرِهٖۤ ۖؗ
اِنَّكُمْ
اِذًا
مِّثْلُهُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
جَامِعُ
الْمُنٰفِقِیْنَ
وَالْكٰفِرِیْنَ
فِیْ
جَهَنَّمَ
جَمِیْعَا
۟ۙ
اور اللہ کتاب میں تم پر یہ حکم اتار چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق کیا جارہا ہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو، یہاں تک کہ وہ دوسری بات میں مشغول ہوجائیں ورنہ تم بھی انھیں جیسے ہوجاؤ گے اللہ منافقوں کو اور منکروں کو جہنم میں ایک جگہ اکھٹا کرنے والا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر فرمان ہے جب میں تمہیں منع کر چکا کہ جس مجلس میں اللہ کی آیتوں سے انکار کیا جا رہا ہو اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو اس میں نہ بیٹھو، پھر بھی اگر تم ایسی مجلسوں میں شریک ہوتے رہو گے تو یاد رکھو میرے ہاں تم بھی ان کے شریک کار سمجھے جاؤ گے۔ ان کے گناہ میں تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے جیسے ایک حدیث
باب…
پھر فرمان ہے جب میں تمہیں منع کر چکا کہ جس مجلس میں اللہ کی آیتوں سے انکار کیا جا رہا ہو اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو اس میں نہ بیٹھو، پھر بھی اگ