یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
كُوْنُوْا
قَوّٰمِیْنَ
بِالْقِسْطِ
شُهَدَآءَ
لِلّٰهِ
وَلَوْ
عَلٰۤی
اَنْفُسِكُمْ
اَوِ
الْوَالِدَیْنِ
وَالْاَقْرَبِیْنَ ۚ
اِنْ
یَّكُنْ
غَنِیًّا
اَوْ
فَقِیْرًا
فَاللّٰهُ
اَوْلٰی
بِهِمَا ۫
فَلَا
تَتَّبِعُوا
الْهَوٰۤی
اَنْ
تَعْدِلُوْا ۚ
وَاِنْ
تَلْوٗۤا
اَوْ
تُعْرِضُوْا
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرًا
۟
اے اہل ایمان کھڑے ہوجاؤ پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر خواہ یہ (انصاف کی بات اور شہادت) تمہارے اپنے خلاف ہو یا تمہارے والدین کے یا تمہارے قرابت داروں کے چاہے وہ شخص غنی ہے یا فقیر اللہ ہی دونوں کا پشت پناہ ہے تو تم خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا کہ تم عدل سے ہٹ جاؤ۔ اگر تم زبانوں کو مروڑو گے یا اعراض کرو گے تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انصاف اور سچی گواہی تقوے کی روح ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عدل و انصاف پر مضبوطی سے جمے رہیں اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ سرکیں، ایسا نہ ہو کہ ڈر کی وجہ سے یا کسی لالچ کی بنا پر یا کسی خوشامد میں یا کسی پر رحم کھا کر یا کسی سفارش سے عدل و انصاف چھوڑ بیٹھیں۔ سب مل کر عدل کو قائم و
انصاف اور سچی گواہی تقوے کی روح ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عدل و انصاف پر مضبوطی سے جمے رہیں اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ سرکیں، ا