وَاِذَا
ضَرَبْتُمْ
فِی
الْاَرْضِ
فَلَیْسَ
عَلَیْكُمْ
جُنَاحٌ
اَنْ
تَقْصُرُوْا
مِنَ
الصَّلٰوةِ ۖۗ
اِنْ
خِفْتُمْ
اَنْ
یَّفْتِنَكُمُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا ؕ
اِنَّ
الْكٰفِرِیْنَ
كَانُوْا
لَكُمْ
عَدُوًّا
مُّبِیْنًا
۟
اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصرکرو، اگر تم کو ڈر ہو کہ منکر تم کو ستائیں گے بے شک منکر لوگ تمھارے کھلے ہوئے دشمن ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
صلوۃ قصر ؟ ٭٭…
فرمان الٰہی ہے کہ تم کہیں سفر میں جا رہے ہو۔ یہی الفاظ سفر کے لیے سورۃ مزمل میں بھی آئے ہیں «عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ» [73-المزمل:20] ۔ تو تم پر نماز کی تخفیف کرنے میں کوئی گناہ نہیں، یہ کمی یا تو ک
صلوۃ قصر ؟ ٭٭…
فرمان الٰہی ہے کہ تم کہیں سفر میں جا رہے ہو۔ یہی الفاظ سفر کے لیے سورۃ مزمل میں بھی آئے ہیں «عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَآ