النمل 27:84 حتى اذا جاءوا قال اكذبتم باياتي ولم تحيطوا بها علما اماذا كنتم تعملون ٨٤
حَتّٰۤی
اِذَا
جَآءُوْ
قَالَ
اَكَذَّبْتُمْ
بِاٰیٰتِیْ
وَلَمْ
تُحِیْطُوْا
بِهَا
عِلْمًا
اَمَّاذَا
كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَ
۟
Yahan tak ke jab sab aa jayenge to (unka Rubb unse) puchega ke “tumne meri aayat ko jhutla diya halaanke tumne unka ilmi ihata (comprehend) na kiya tha? Agar yeh nahin to aur tum kya kar rahey thay?”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دابتہ الارض ٭٭…
اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہو گا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہو گی تاکہ ان کی ذلت وحقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:
دابتہ الارض ٭٭…
اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہو گا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہو گی تاکہ ان کی ذلت وحقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمان