قَالُوا
اطَّیَّرْنَا
بِكَ
وَبِمَنْ
مَّعَكَ ؕ
قَالَ
طٰٓىِٕرُكُمْ
عِنْدَ
اللّٰهِ
بَلْ
اَنْتُمْ
قَوْمٌ
تُفْتَنُوْنَ
۟
Unhon ne kaha “humne to tumko aur tumhare sathiyon ko badd-shaguni ka nishaan paya hai”. Saleh ne jawab diya “tumhare neik o badd shagun ka sar rishta (good and bad omens issue) Allah ke paas hai. Asal baat yeh hai ke tum logon ki aazmaish ho rahi hai”
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
صالح علیہ السلام کی ضدی قوم ٭٭…
صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح علیہ السلام کو رسول اللہ مان
صالح علیہ السلام کی ضدی قوم ٭٭…
صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئ