وَلَا
تَكُوْنُوْا
كَالَّتِیْ
نَقَضَتْ
غَزْلَهَا
مِنْ
بَعْدِ
قُوَّةٍ
اَنْكَاثًا ؕ
تَتَّخِذُوْنَ
اَیْمَانَكُمْ
دَخَلًا
بَیْنَكُمْ
اَنْ
تَكُوْنَ
اُمَّةٌ
هِیَ
اَرْبٰی
مِنْ
اُمَّةٍ ؕ
اِنَّمَا
یَبْلُوْكُمُ
اللّٰهُ
بِهٖ ؕ
وَلَیُبَیِّنَنَّ
لَكُمْ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ
مَا
كُنْتُمْ
فِیْهِ
تَخْتَلِفُوْنَ
۟
اور مت ہوجاؤ اس (دیوانی) عورت کی مانند جس نے اپنا سوت توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا مضبوطی (سے کاتنے) کے بعد تم اپنی قسموں کو اپنے مابین دخل دینے کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ نہ ہوجائے ایک قوم بڑھی ہوئی دوسری قوم سے یقیناً اللہ تمہیں آزما رہا ہے اس کے ذریعے سے اور وہ ضرور ظاہر کرے گا تم پر قیامت کے دن وہ سب کچھ جس میں تم لوگ اختلاف کرتے تھے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عہد و پیمان کی حفاظت ٭٭…
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ «وَلَا تَجْعَلُوا اللَّـهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا» [2-البقرۃ:224] ” اپنی قسموں کا نشانہ ال
عہد و پیمان کی حفاظت ٭٭…
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید