فَتَقَبَّلَهَا
رَبُّهَا
بِقَبُوْلٍ
حَسَنٍ
وَّاَنْۢبَتَهَا
نَبَاتًا
حَسَنًا ۙ
وَّكَفَّلَهَا
زَكَرِیَّا ؕۚ
كُلَّمَا
دَخَلَ
عَلَیْهَا
زَكَرِیَّا
الْمِحْرَابَ ۙ
وَجَدَ
عِنْدَهَا
رِزْقًا ۚ
قَالَ
یٰمَرْیَمُ
اَنّٰی
لَكِ
هٰذَا ؕ
قَالَتْ
هُوَ
مِنْ
عِنْدِ
اللّٰهِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یَرْزُقُ
مَنْ
یَّشَآءُ
بِغَیْرِ
حِسَابٍ
۟
پس اس کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول کیا اور اس کو عمدہ طریقہ سے پروان چڑھایا اور زکریا کواس کا سرپرست بنایا جب کبھی زکریا ان کے پاس حجرہ میں آتا تو وہ وہاں رزق پاتااس نے پوچھا اے مریم، یہ چیز تمھیں کہا ں سے ملتی ہے مریم نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے بے شک اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دے دیتا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
زکریا علیہ السلام کا تعارف ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ حنہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ نے بخوشی قبول فرما لیا اور اسے بہترین طور سے نشوونما بخشی، ظاہری خوبی بھی عطا فرمائی اور باطنی خوبی سے بھرپور کر دیا اور اپنے نیک بندوں میں ان کی پرورش کرائی تاکہ علم اور خیر اور دین سیکھ لیں، زکریا علیہ السلام کو ان ک
زکریا علیہ السلام کا تعارف ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ حنہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ نے بخوشی قبول فرما لیا اور اسے بہترین طور سے نشوونما بخشی، ظاہری خوب