یَوْمَ
تَجِدُ
كُلُّ
نَفْسٍ
مَّا
عَمِلَتْ
مِنْ
خَیْرٍ
مُّحْضَرًا ۛۖۚ
وَّمَا
عَمِلَتْ
مِنْ
سُوْٓءٍ ۛۚ
تَوَدُّ
لَوْ
اَنَّ
بَیْنَهَا
وَبَیْنَهٗۤ
اَمَدًاۢ
بَعِیْدًا ؕ
وَیُحَذِّرُكُمُ
اللّٰهُ
نَفْسَهٗ ؕ
وَاللّٰهُ
رَءُوْفٌۢ
بِالْعِبَادِ
۟۠
(اس دن کا تصور کرو) جس دن ہر جان اپنے سامنے موجود پائے گی ہر نیکی جو اس نے کی ہوگی اور ہر برائی جو اس نے کمائی ہوگی اور (ہر جان) یہ چاہے گی کہ کاش اس کے اور اس (کے نامۂ اعمال) کے درمیان ایک زمانۂ دراز حائل ہوتا اور اللہ ڈرا رہا ہے تمہیں اپنے آپ سے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حق میں بہت شفیق ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالٰی سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔ زمین کے گوشوں میں، پہاڑوں میں، سمندروں میں، آسمانوں میں، ہواؤں میں، س
اللہ تعالٰی سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی ب