آل عمران 3:195 فاستجاب لهم ربهم اني لا اضيع عمل عامل منكم من ذكر او انثى بعضكم من بعض فالذين هاجروا واخرجوا من ديارهم واوذوا في سبيلي وقاتلوا وقتلوا لاكفرن عنهم سيياتهم ولادخلنهم جنات تجري من تحتها الانهار ثوابا من عند الله والله عنده حسن الثواب ١٩٥
فَاسْتَجَابَ
لَهُمْ
رَبُّهُمْ
اَنِّیْ
لَاۤ
اُضِیْعُ
عَمَلَ
عَامِلٍ
مِّنْكُمْ
مِّنْ
ذَكَرٍ
اَوْ
اُ ۚ
بَعْضُكُمْ
مِّنْ
بَعْضٍ ۚ
فَالَّذِیْنَ
هَاجَرُوْا
وَاُخْرِجُوْا
مِنْ
دِیَارِهِمْ
وَاُوْذُوْا
فِیْ
سَبِیْلِیْ
وَقٰتَلُوْا
وَقُتِلُوْا
لَاُكَفِّرَنَّ
عَنْهُمْ
سَیِّاٰتِهِمْ
وَلَاُدْخِلَنَّهُمْ
جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ ۚ
ثَوَابًا
مِّنْ
عِنْدِ
اللّٰهِ ؕ
وَاللّٰهُ
عِنْدَهٗ
حُسْنُ
الثَّوَابِ
۟
ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، میں ان کی خطائیں ضرور ان سے دور کردوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گاجن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دعا کیجئے قبول ہوگی بشرطیکہ؟ ٭٭…
یہاں «اسْتَجَابَ» کے معنی میں «اجَابَ» کے ہیں اور یہ عربی میں برابر مروج ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ عورتوں کی ہجرت کا کہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کرتا اس پر یہ آیت اتری، انصار کا بیان ہے
دعا کیجئے قبول ہوگی بشرطیکہ؟ ٭٭…
یہاں «اسْتَجَابَ» کے معنی میں «اجَابَ» کے ہیں اور یہ عربی میں برابر مروج ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک روز ن