فَاسْتَجَابَ
لَهُمْ
رَبُّهُمْ
اَنِّیْ
لَاۤ
اُضِیْعُ
عَمَلَ
عَامِلٍ
مِّنْكُمْ
مِّنْ
ذَكَرٍ
اَوْ
اُ ۚ
بَعْضُكُمْ
مِّنْ
بَعْضٍ ۚ
فَالَّذِیْنَ
هَاجَرُوْا
وَاُخْرِجُوْا
مِنْ
دِیَارِهِمْ
وَاُوْذُوْا
فِیْ
سَبِیْلِیْ
وَقٰتَلُوْا
وَقُتِلُوْا
لَاُكَفِّرَنَّ
عَنْهُمْ
سَیِّاٰتِهِمْ
وَلَاُدْخِلَنَّهُمْ
جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ ۚ
ثَوَابًا
مِّنْ
عِنْدِ
اللّٰهِ ؕ
وَاللّٰهُ
عِنْدَهٗ
حُسْنُ
الثَّوَابِ
۟
جواب میں ان کے رب نے فرمایا ”میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہو ں۔ خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔1 لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے ان کے سب قصور میں معاف کردوں گا اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کر دوں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہتر ین جزا اللہ ہی کے پاس ہے“۔ 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دعا کیجئے قبول ہوگی بشرطیکہ؟ ٭٭…
یہاں «اسْتَجَابَ» کے معنی میں «اجَابَ» کے ہیں اور یہ عربی میں برابر مروج ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ عورتوں کی ہجرت کا کہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کرتا اس پر یہ آیت اتری، انصار کا بیان ہے
دعا کیجئے قبول ہوگی بشرطیکہ؟ ٭٭…
یہاں «اسْتَجَابَ» کے معنی میں «اجَابَ» کے ہیں اور یہ عربی میں برابر مروج ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک روز ن