آل عمران 3:185 كل نفس ذايقة الموت وانما توفون اجوركم يوم القيامة فمن زحزح عن النار وادخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا الا متاع الغرور ١٨٥
كُلُّ
نَفْسٍ
ذَآىِٕقَةُ
الْمَوْتِ ؕ
وَاِنَّمَا
تُوَفَّوْنَ
اُجُوْرَكُمْ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ؕ
فَمَنْ
زُحْزِحَ
عَنِ
النَّارِ
وَاُدْخِلَ
الْجَنَّةَ
فَقَدْ
فَازَ ؕ
وَمَا
الْحَیٰوةُ
الدُّنْیَاۤ
اِلَّا
مَتَاعُ
الْغُرُوْرِ
۟
ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ تو قیامت ہی کے دن دیا جائے گا تو جو کوئی بچالیا گیا جہنم سے اور داخل کردیا گیا جنت میں تو وہ کامیاب ہوگیا اور یہ دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موت و حیات اور یوم حساب ٭٭…
تمام مخلوق کو عام اطلاع ہے کہ ہر جاندار مرنے والا ہے جیسے فرمایا آیت «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» [55-الرحمن:27] یعنی اس زمین پر جتنے ہیں سب فانی ہیں صرف رب کا چہرہ باقی ہے جو بزرگی اور انعام والا ہے، پس صرف وہی ا
موت و حیات اور یوم حساب ٭٭…
تمام مخلوق کو عام اطلاع ہے کہ ہر جاندار مرنے والا ہے جیسے فرمایا آیت «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ