آل عمران 3:167 وليعلم الذين نافقوا وقيل لهم تعالوا قاتلوا في سبيل الله او ادفعوا قالوا لو نعلم قتالا لاتبعناكم هم للكفر يوميذ اقرب منهم للايمان يقولون بافواههم ما ليس في قلوبهم والله اعلم بما يكتمون ١٦٧
وَلِیَعْلَمَ
الَّذِیْنَ
نَافَقُوْا ۖۚ
وَقِیْلَ
لَهُمْ
تَعَالَوْا
قَاتِلُوْا
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
اَوِ
ادْفَعُوْا ؕ
قَالُوْا
لَوْ
نَعْلَمُ
قِتَالًا
لَّاتَّبَعْنٰكُمْ ؕ
هُمْ
لِلْكُفْرِ
یَوْمَىِٕذٍ
اَقْرَبُ
مِنْهُمْ
لِلْاِیْمَانِ ۚ
یَقُوْلُوْنَ
بِاَفْوَاهِهِمْ
مَّا
لَیْسَ
فِیْ
قُلُوْبِهِمْ ؕ
وَاللّٰهُ
اَعْلَمُ
بِمَا
یَكْتُمُوْنَ
۟ۚ
اور ان کو بھی جان لے جو منافق تھے جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو دفع کرو انھوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ جنگ ہونا ہے تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے یہ لوگ اس دن ایمان سے زیادہ کفر کے قریب تھے وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ اس چیزکو خوب جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭…
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیب
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭…
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو