وَلِیَعْلَمَ
الَّذِیْنَ
نَافَقُوْا ۖۚ
وَقِیْلَ
لَهُمْ
تَعَالَوْا
قَاتِلُوْا
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
اَوِ
ادْفَعُوْا ؕ
قَالُوْا
لَوْ
نَعْلَمُ
قِتَالًا
لَّاتَّبَعْنٰكُمْ ؕ
هُمْ
لِلْكُفْرِ
یَوْمَىِٕذٍ
اَقْرَبُ
مِنْهُمْ
لِلْاِیْمَانِ ۚ
یَقُوْلُوْنَ
بِاَفْوَاهِهِمْ
مَّا
لَیْسَ
فِیْ
قُلُوْبِهِمْ ؕ
وَاللّٰهُ
اَعْلَمُ
بِمَا
یَكْتُمُوْنَ
۟ۚ
اور ان کو بھی جان لے جو منافق تھے جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو دفع کرو انھوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ جنگ ہونا ہے تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے یہ لوگ اس دن ایمان سے زیادہ کفر کے قریب تھے وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ اس چیزکو خوب جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭…
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیب
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭…
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو