سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
154:3
ثم انزل عليكم من بعد الغم امنة نعاسا يغشى طايفة منكم وطايفة قد اهمتهم انفسهم يظنون بالله غير الحق ظن الجاهلية يقولون هل لنا من الامر من شيء قل ان الامر كله لله يخفون في انفسهم ما لا يبدون لك يقولون لو كان لنا من الامر شيء ما قتلنا هاهنا قل لو كنتم في بيوتكم لبرز الذين كتب عليهم القتل الى مضاجعهم وليبتلي الله ما في صدوركم وليمحص ما في قلوبكم والله عليم بذات الصدور ١٥٤
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنۢ بَعْدِ ٱلْغَمِّ أَمَنَةًۭ نُّعَاسًۭا يَغْشَىٰ طَآئِفَةًۭ مِّنكُمْ ۖ وَطَآئِفَةٌۭ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ ظَنَّ ٱلْجَـٰهِلِيَّةِ ۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ مِن شَىْءٍۢ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْأَمْرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِ ۗ يُخْفُونَ فِىٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌۭ مَّا قُتِلْنَا هَـٰهُنَا ۗ قُل لَّوْ كُنتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ وَلِيَبْتَلِىَ ٱللَّهُ مَا فِى صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ١٥٤
ثُمَّ
اَنۡزَلَ
عَلَيۡكُمۡ
مِّنۡۢ
بَعۡدِ
الۡغَمِّ
اَمَنَةً
نُّعَاسًا
يَّغۡشٰى
طَآٮِٕفَةً
مِّنۡكُمۡ​ۙ
وَطَآٮِٕفَةٌ
قَدۡ
اَهَمَّتۡهُمۡ
اَنۡفُسُهُمۡ
يَظُنُّوۡنَ
بِاللّٰهِ
غَيۡرَ
الۡحَـقِّ
ظَنَّ
الۡجَـاهِلِيَّةِ​ؕ
يَقُوۡلُوۡنَ
هَلۡ
لَّنَا
مِنَ
الۡاَمۡرِ
مِنۡ
شَىۡءٍ​ؕ
قُلۡ
اِنَّ
الۡاَمۡرَ
كُلَّهٗ
لِلّٰهِ​ؕ
يُخۡفُوۡنَ
فِىۡۤ
اَنۡفُسِهِمۡ
مَّا
لَا
يُبۡدُوۡنَ
لَكَ​ؕ
يَقُوۡلُوۡنَ
لَوۡ
كَانَ
لَنَا
مِنَ
الۡاَمۡرِ
شَىۡءٌ
مَّا
قُتِلۡنَا
هٰهُنَا ​ؕ
قُلۡ
لَّوۡ
كُنۡتُمۡ
فِىۡ
بُيُوۡتِكُمۡ
لَبَرَزَ
الَّذِيۡنَ
كُتِبَ
عَلَيۡهِمُ
الۡقَتۡلُ
اِلٰى
مَضَاجِعِهِمۡ​ۚ
وَلِيَبۡتَلِىَ
اللّٰهُ
مَا
فِىۡ
صُدُوۡرِكُمۡ
وَلِيُمَحِّصَ
مَا
فِىۡ
قُلُوۡبِكُمۡ​ؕ
وَاللّٰهُ
عَلِيۡمٌۢ
بِذَاتِ
الصُّدُوۡرِ‏
١٥٤
) پھر اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر اطمینان نازل فرمایا یعنی نیند جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہوگئی اور ایک گروہ ایسا تھا کہ جنہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی وہ اللہ کے بارے میں ناحق جہالت والے گمان کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے لیے بھی اختیار میں کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟ کہہ دیجیے کہ سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے (اے نبی ﷺ یہ اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کر رہے یہ (اپنے دل میں) کہتے ہیں کہ اگر اختیار میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے ان سے کہیے اگر تم سب کے سب اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن لوگوں کا قتل ہونا مقدر تھا وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کر رہتے اور یہ (معاملہ جو پیش آیا) اس لیے تھا کہ اللہ اسے آزمالے جو کچھ تمہارے سینوں میں تھا اور تاکہ وہ بالکل پاک اور خالص کر دے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
مزیددکھائیں...
آپ 3:154 سے 3:155 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن و امان کا نشان ہے جیسے سورۃ الانفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت «إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ» [8-الأنفال:11] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لڑائی کے وقت ان کی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے،

سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی کہ بار بار تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی آپ فرماتے ہیں جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو تقریباً ہر شخص کو اسی حالت میں پایا، [صحیح بخاری:4068] ‏

ہاں البتہ ایک جماعت وہ بھی تھی جن کے دلوں میں نفاق تھا یہ مارے خوف و دہشت کے ہلکان ہو رہے تھے اور ان کی بدگمانیاں اور برے خیال حد کو پہنچ گئے تھے۔ [سنن ترمذي:3008،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر1346

پس اہل ایمان،اہل یقین،اہل ثبات، اہل توکل اور اہل صدق تو یقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرور مدد کرے گا اور ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو کر رہے گی لیکن اہل نفاق، اہل شک، بےیقین، ڈھلمل ایمان والوں کی عجب حالت تھی ان کی جان عذاب میں تھی وہ ہائے وائے کر رہے تھے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسواس پیدا ہو رہے تھے انہیں یقین کامل ہو گیا تھا کہ اب مرے، وہ جان چکے تھے کہ رسول اور مومن [ نعوذ باللہ ] ‏ اب بچ کر نہیں جائیں گے، اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے۔ کہ جہاں جیسا کہ آیت میں ہے کہ «بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا» [ 48-الفتح: 12 ] ‏ اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں، فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے کہ جہاں ذرا نیچا پانسہ دیکھا تو ناامیدی کی گھٹگھور گھٹاؤں نے انہیں گھیر لیا ان کے برخلاف ایماندار بد سے بد تر حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھتا ہے۔

صفحہ نمبر1347

ان کے دلوں کے خیالات یہ تھے کہ اگر ہمارا کچھ بھی بس چلتا تو آج کی موت سے بچ جاتے اور چپکے چپکے یوں کہتے بھی تھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس سخت خوف کے وقت ہمیں تو اس قدر نیند آنے لگی کہ ہماری ٹھوڑیاں سینوں سے لگ گئیں میں نے اپنی اسی حالت میں معتب بن قشیر کے یہ الفاظ سنے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ ہوتے [تفسیر ابن جریر الطبری:8093:حسن] ‏

اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں مرنے کا وقت نہیں ٹلتا گو تم گھروں میں ہوتے لیکن پھر بھی جن پر یہاں کٹنا لکھا جا چکا ہوتا وہ گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں میدان میں آ کر ڈٹ گئے اور اللہ کا لکھا پورا اترا۔ یہ وقت اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے ارادوں اور تمہارے مخفی بھیدوں کو بے نقاب کردے، اس آزمائش سے بھلے اور برے نیک اور بد میں تمیز ہو گئی، اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں اور ارادوں سے پوری طرح واقف ہے اس نے اس ذرا سے واقعہ سے منافقوں کو بے نقاب کر دیا اور مسلمانوں کا بھی ظاہری امتحان ہو گیا، اب سچے مسلمانوں کی لغزش کا بیان ہو رہا ہے جو انسانی کمزوری کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی فرماتا ہے شیطان نے یہ لغزش ان سے کرا دی دراصل یہ سب ان کے عمل کا نتیجہ تھا نہ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے نہ ان کے قدم اکھڑتے، انہیں اللہ تعالیٰ معذور جانتا ہے اور ان سے اس نے درگزر فرما لیا اور ان کی اس خطا کو معاف کر دیا اللہ کا کام ہی درگزر کرنا بخشنا معاف فرمانا، حلم اور بربادی برتنا تحمل اور عفو کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ عثمان وغیرہ کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔

صفحہ نمبر1348

مسند احمد میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا آخر تم امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس قدر کیوں بگڑے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا اس سے کہ دو کہ میں نے احد والے دن فرار نہیں کیا بدر کے غزوے میں غیر حاضر نہیں رہا اور نہ سنت عمر رضی اللہ عنہ ترک کی، ولید نے جا کر عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کہہ رہا ہے «وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ» [3-آل عمران:155] ‏ یعنی احد والے دن کی اس لغزش سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا پھر جس خطا کو اللہ نے معاف کر دیا اس پر عذر لانا کیا؟

بدر والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری بیوی رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھا یہاں تک کہ وہ اسی بیماری میں فوت ہو گئیں چنانچہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے پور احصہ دیا اور ظاہر ہے کہ حصہ انہیں ملتا ہے جو موجود ہیں پس حکماً میری موجودگی ثابت ہوا ہے، رہی سنت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طاقت نہ مجھ میں ہے نہ عبدالرحمٰن میں، جاؤ انہیں یہ جواب بھی پہنچا دو۔ [مسند احمد:68/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر1349
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں