مَثَلُ
مَا
یُنْفِقُوْنَ
فِیْ
هٰذِهِ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
كَمَثَلِ
رِیْحٍ
فِیْهَا
صِرٌّ
اَصَابَتْ
حَرْثَ
قَوْمٍ
ظَلَمُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
فَاَهْلَكَتْهُ ؕ
وَمَا
ظَلَمَهُمُ
اللّٰهُ
وَلٰكِنْ
اَنْفُسَهُمْ
یَظْلِمُوْنَ
۟
جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنھوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے۔1 اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا درحقیقت یہ خود اپنےاوپر ظلم کر رہے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ظلم نہیں سزا ٭٭…
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صر
ظلم نہیں سزا ٭٭…
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ ع