القصص 28:59 وما كان ربك مهلك القرى حتى يبعث في امها رسولا يتلو عليهم اياتنا وما كنا مهلكي القرى الا واهلها ظالمون ٥٩
وَمَا
كَانَ
رَبُّكَ
مُهْلِكَ
الْقُرٰی
حَتّٰی
یَبْعَثَ
فِیْۤ
اُمِّهَا
رَسُوْلًا
یَّتْلُوْا
عَلَیْهِمْ
اٰیٰتِنَا ۚ
وَمَا
كُنَّا
مُهْلِكِی
الْقُرٰۤی
اِلَّا
وَاَهْلُهَا
ظٰلِمُوْنَ
۟
Aur tera Rubb bastiyon ko halaak karne wala na tha jab tak ke unke markaz mein ek Rasool na bhejh deta jo unko hamari aayat sunata, aur hum bastiyon ko halaak karne waley na they jab tak ke unke rehne waley zaalim na ho jatey
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اہل مکہ کو تنبیہہ ٭٭…
اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کر کے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرتے تھے نبی علیہ السلام کا انکار کرتے تھے اور اللہ کی روزیاں کھاتے تھے اور اس کی نمک حرامی کرتے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح تباہ و برباد کر دیا کہ آ
اہل مکہ کو تنبیہہ ٭٭…
اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کر کے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرت