وَقَالَ
فِرْعَوْنُ
یٰۤاَیُّهَا
الْمَلَاُ
مَا
عَلِمْتُ
لَكُمْ
مِّنْ
اِلٰهٍ
غَیْرِیْ ۚ
فَاَوْقِدْ
لِیْ
یٰهَامٰنُ
عَلَی
الطِّیْنِ
فَاجْعَلْ
لِّیْ
صَرْحًا
لَّعَلِّیْۤ
اَطَّلِعُ
اِلٰۤی
اِلٰهِ
مُوْسٰی ۙ
وَاِنِّیْ
لَاَظُنُّهٗ
مِنَ
الْكٰذِبِیْنَ
۟
اور فرعون نے کہا کہ اے دربار والو، میں تمھارے ليے اپنے سوا کسی معبود کو نہیں جانتا تو اے ہامان، میرے ليے مٹی کو آگ دے، پھر میرے ليے ایک اونچی عمارت بنا تاکہ میں موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں ، اور میں تو اس کو ایک جھوٹا آدمی سمجھتا ہوں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فرعونیوں کا انجام ٭٭…
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ
فرعونیوں کا انجام ٭٭…
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ