فَلَمَّاۤ
اَتٰىهَا
نُوْدِیَ
مِنْ
شَاطِئِ
الْوَادِ
الْاَیْمَنِ
فِی
الْبُقْعَةِ
الْمُبٰرَكَةِ
مِنَ
الشَّجَرَةِ
اَنْ
یّٰمُوْسٰۤی
اِنِّیْۤ
اَنَا
اللّٰهُ
رَبُّ
الْعٰلَمِیْنَ
۟ۙ
پھر جب وہ وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے سے برکت والے خطہ میں درخت سے پکارا گیا کہ اے موسیٰ، میں اللہ ہوں ، سارے جہان کا مالک
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
دس سال حق مہر ٭٭…
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب موسیٰ علیہ ا
دس سال حق مہر ٭٭…
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ