قَالَ
اِنِّیْۤ
اُرِیْدُ
اَنْ
اُنْكِحَكَ
اِحْدَی
ابْنَتَیَّ
هٰتَیْنِ
عَلٰۤی
اَنْ
تَاْجُرَنِیْ
ثَمٰنِیَ
حِجَجٍ ۚ
فَاِنْ
اَتْمَمْتَ
عَشْرًا
فَمِنْ
عِنْدِكَ ۚ
وَمَاۤ
اُرِیْدُ
اَنْ
اَشُقَّ
عَلَیْكَ ؕ
سَتَجِدُنِیْۤ
اِنْ
شَآءَ
اللّٰهُ
مِنَ
الصّٰلِحِیْنَ
۟
اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تمھارے ساتھ کردوں اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری ملازمت کرو پھر اگر تم دس سال پورے کردو تو وہ تمھاری طرف سے ہے اور میں تم پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا ان شاء اللہ تم مجھ کو بھلا آدمی پاؤ گے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭…
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ ”آج کیا بات ہے؟“ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھ
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭…
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔