فَجَآءَتْهُ
اِحْدٰىهُمَا
تَمْشِیْ
عَلَی
اسْتِحْیَآءٍ ؗ
قَالَتْ
اِنَّ
اَبِیْ
یَدْعُوْكَ
لِیَجْزِیَكَ
اَجْرَ
مَا
سَقَیْتَ
لَنَا ؕ
فَلَمَّا
جَآءَهٗ
وَقَصَّ
عَلَیْهِ
الْقَصَصَ ۙ
قَالَ
لَا
تَخَفْ ۫ۥ
نَجَوْتَ
مِنَ
الْقَوْمِ
الظّٰلِمِیْنَ
۟
پھر ان دونوں میں سے ایک لڑکی آئی شرم سے چلتی ہوئی اس نے کہا کہ میرا باپ آپ کو بلا رہا ہے کہ آپ نے ہماری خاطر جو پانی پلایا اس کا آپ کو بدلہ دے پھر جب وہ اس کے پاس آیا اور اس سے سارا قصہ بیان کیا تو اس نے کہا کہ اندیشہ نہ کرو تم نے ظالموں سے نجات پائی
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭…
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ ”آج کیا بات ہے؟“ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھ
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭…
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔