فَلَمَّاۤ
اَنْ
اَرَادَ
اَنْ
یَّبْطِشَ
بِالَّذِیْ
هُوَ
عَدُوٌّ
لَّهُمَا ۙ
قَالَ
یٰمُوْسٰۤی
اَتُرِیْدُ
اَنْ
تَقْتُلَنِیْ
كَمَا
قَتَلْتَ
نَفْسًا
بِالْاَمْسِ ۖۗ
اِنْ
تُرِیْدُ
اِلَّاۤ
اَنْ
تَكُوْنَ
جَبَّارًا
فِی
الْاَرْضِ
وَمَا
تُرِیْدُ
اَنْ
تَكُوْنَ
مِنَ
الْمُصْلِحِیْنَ
۟
پھر جب اس نے چاہا کہ اس کو پکڑے جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس نے کہا کہ اے موسیٰ، کیا تم مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا تم تو زمین میں سرکش بن کر رہنا چاہتے ہو تم صلح کرنے والوں میں سے بننا نہیں چاہتے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
جسے بچایا اسی نے راز کھولا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لیے آپ علیہ السلام کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ آپ علیہ السلام کو دیکھتے ہی کل کی ط
جسے بچایا اسی نے راز کھولا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لیے آپ علیہ السلام کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ د