وَدَخَلَ
الْمَدِیْنَةَ
عَلٰی
حِیْنِ
غَفْلَةٍ
مِّنْ
اَهْلِهَا
فَوَجَدَ
فِیْهَا
رَجُلَیْنِ
یَقْتَتِلٰنِ ؗۗ
هٰذَا
مِنْ
شِیْعَتِهٖ
وَهٰذَا
مِنْ
عَدُوِّهٖ ۚ
فَاسْتَغَاثَهُ
الَّذِیْ
مِنْ
شِیْعَتِهٖ
عَلَی
الَّذِیْ
مِنْ
عَدُوِّهٖ ۙ
فَوَكَزَهٗ
مُوْسٰی
فَقَضٰی
عَلَیْهِ ؗۗ
قَالَ
هٰذَا
مِنْ
عَمَلِ
الشَّیْطٰنِ ؕ
اِنَّهٗ
عَدُوٌّ
مُّضِلٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
اور شہر میں وہ ایسے وقت داخل ہوا جب کہ شہر والے غفلت میں تھے تو اس نے وہاں دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے پایا ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا دشمنوں میں سے تھا تو جو اس کی قوم میں سے تھا اس نے اس کے خلاف مدد طلب کی جو اس کے دشمنوں میں سے تھا پس موسیٰ نے اس کو گھونسہ مارا پھر اس کا کام تمام کردیا موسیٰ نے کہا کہ یہ شیطان کے کام سے ہے بے شک وہ دشمن ہے، کھلا گمراہ کرنے والا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
گھونسے سے موت ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا “۔ یعنی نبوت دی۔ ” نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں “، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان
گھونسے سے موت ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا “۔ یعنی نبوت