الممتحنة 60:12 يا ايها النبي اذا جاءك المومنات يبايعنك على ان لا يشركن بالله شييا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن اولادهن ولا ياتين ببهتان يفترينه بين ايديهن وارجلهن ولا يعصينك في معروف فبايعهن واستغفر لهن الله ان الله غفور رحيم ١٢
صفحہ 551 · پارہ 28
یٰۤاَیُّهَا
النَّبِیُّ
اِذَا
جَآءَكَ
الْمُؤْمِنٰتُ
یُبَایِعْنَكَ
عَلٰۤی
اَنْ
لَّا
یُشْرِكْنَ
بِاللّٰهِ
شَیْـًٔا
وَّلَا
یَسْرِقْنَ
وَلَا
یَزْنِیْنَ
وَلَا
یَقْتُلْنَ
اَوْلَادَهُنَّ
وَلَا
یَاْتِیْنَ
بِبُهْتَانٍ
یَّفْتَرِیْنَهٗ
بَیْنَ
اَیْدِیْهِنَّ
وَاَرْجُلِهِنَّ
وَلَا
یَعْصِیْنَكَ
فِیْ
مَعْرُوْفٍ
فَبَایِعْهُنَّ
وَاسْتَغْفِرْ
لَهُنَّ
اللّٰهَ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اے نبی، جب تمھارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گیاور وہ چوری نہ کریں گیاور وہ بدکاری نہ کریں گیاور وہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گےاور وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑکر نہ لائیں گیاور وہ کسی معروف میں تمھاری نافرمانی نہ کریں گی تو تم ان سے بیعت لے لو اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کرو، بے شک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خواتین کا طریقہ بیعت ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو مسلمان عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتی تھیں ان کا امتحان اسی آیت سے ہوتا تھا، جو عورت ان تمام باتوں کا اقرار کر لیتی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زبانی فرما دیتے کہ میں نے تم سے بیعت کی ی
خواتین کا طریقہ بیعت ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو مسلمان عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتی تھی