وَمَنْ
یَّدْعُ
مَعَ
اللّٰهِ
اِلٰهًا
اٰخَرَ ۙ
لَا
بُرْهَانَ
لَهٗ
بِهٖ ۙ
فَاِنَّمَا
حِسَابُهٗ
عِنْدَ
رَبِّهٖ ؕ
اِنَّهٗ
لَا
یُفْلِحُ
الْكٰفِرُوْنَ
۟
اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے، جس کے حق میں اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ، تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے بے شک منکروں کو فلاح نہ ہوگی
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
دلائل کے ساتھ مشرک کا موحد ہونا ٭٭…
مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور جواب شرط «فَاِنَّمَا» والے جملے کے ضمن میں ہے یعنی اس کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ کافر اس کے پاس کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وہ نجات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک
دلائل کے ساتھ مشرک کا موحد ہونا ٭٭…
مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور