فَمَنْ
لَّمْ
یَجِدْ
فَصِیَامُ
شَهْرَیْنِ
مُتَتَابِعَیْنِ
مِنْ
قَبْلِ
اَنْ
یَّتَمَآسَّا ۚ
فَمَنْ
لَّمْ
یَسْتَطِعْ
فَاِطْعَامُ
سِتِّیْنَ
مِسْكِیْنًا ؕ
ذٰلِكَ
لِتُؤْمِنُوْا
بِاللّٰهِ
وَرَسُوْلِهٖ ؕ
وَتِلْكَ
حُدُوْدُ
اللّٰهِ ؕ
وَلِلْكٰفِرِیْنَ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟
تو جو کوئی (غلام) نہ پائے وہ دو مہینوں کے روزے رکھے لگاتار اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں۔ تو جو کوئی یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ اس لیے تاکہ تم ایمان رکھو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر۔ اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدود ہیں اور کافروں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
ظہار کے احکام ٭٭…
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھی دیا گیا یعنی غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا یا کھانا دینا، سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ خود ان کی زبانی یہ ہے کہ مجھے جماع کی طاقت ا
ظہار کے احکام ٭٭…
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھ