اُحِلَّ
لَكُمْ
صَیْدُ
الْبَحْرِ
وَطَعَامُهٗ
مَتَاعًا
لَّكُمْ
وَلِلسَّیَّارَةِ ۚ
وَحُرِّمَ
عَلَیْكُمْ
صَیْدُ
الْبَرِّ
مَا
دُمْتُمْ
حُرُمًا ؕ
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ
الَّذِیْۤ
اِلَیْهِ
تُحْشَرُوْنَ
۟
تمھارے ليے دریا کا شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا، تمھارے فائدہ کے ليے اور قافلوں کے ليے اور جب تک تم احرام میں ہو خشکی کا شکار تمھارے اوپر حرام کیاگیا اور اللہ سے ڈرو جس کے پاس تم حاضر کيے جاؤ گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭…
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا اب
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭…
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے