المائدة 5:96 احل لكم صيد البحر وطعامه متاعا لكم وللسيارة وحرم عليكم صيد البر ما دمتم حرما واتقوا الله الذي اليه تحشرون ٩٦
اُحِلَّ
لَكُمْ
صَیْدُ
الْبَحْرِ
وَطَعَامُهٗ
مَتَاعًا
لَّكُمْ
وَلِلسَّیَّارَةِ ۚ
وَحُرِّمَ
عَلَیْكُمْ
صَیْدُ
الْبَرِّ
مَا
دُمْتُمْ
حُرُمًا ؕ
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ
الَّذِیْۤ
اِلَیْهِ
تُحْشَرُوْنَ
۟
Tumhare liye samandar ka shikar aur uska khana halaal kardiya gaya, jahan tum thehro wahan bhi usey kha sakte ho aur kafilay(travellers) ke liye zaad-e-raah bhi bana sakte ho. Albatta khushki(land) ka shikar jab tak tum ehram ki halat mein ho tumpar haraam kiya gaya hai. Pas bacho us khuda ki nafarmani se jiski peshi mein tum sabko gher kar haazir kiya jayega
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭…
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا اب
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭…
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے