یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
لَا
تَقْتُلُوا
الصَّیْدَ
وَاَنْتُمْ
حُرُمٌ ؕ
وَمَنْ
قَتَلَهٗ
مِنْكُمْ
مُّتَعَمِّدًا
فَجَزَآءٌ
مِّثْلُ
مَا
قَتَلَ
مِنَ
النَّعَمِ
یَحْكُمُ
بِهٖ
ذَوَا
عَدْلٍ
مِّنْكُمْ
هَدْیًا
بٰلِغَ
الْكَعْبَةِ
اَوْ
كَفَّارَةٌ
طَعَامُ
مَسٰكِیْنَ
اَوْ
عَدْلُ
ذٰلِكَ
صِیَامًا
لِّیَذُوْقَ
وَبَالَ
اَمْرِهٖ ؕ
عَفَا
اللّٰهُ
عَمَّا
سَلَفَ ؕ
وَمَنْ
عَادَ
فَیَنْتَقِمُ
اللّٰهُ
مِنْهُ ؕ
وَاللّٰهُ
عَزِیْزٌ
ذُو
انْتِقَامٍ
۟
اے ایمان والو، شکار کونہ مارو جب کہ تم حالتِ احرام میں ہو اور تم میں سے جو شخص اس کو جان بوجھ کر مارے تو اس کا بدلہ اسی طرح کا جانو رہے جیسا کہ اس نے مارا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے یا اس کے کفارہ میں چند محتاجوں کو کھانا کھلانا ہوگا یا اس کے برابر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کيے کی سزا چکھے اللہ نے معاف کیا جو کچھ ہوچکا اور جو شخص پھرے گا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ زبردست ہے، بدلہ لینے والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑلے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام
احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑ