لَتَجِدَنَّ
اَشَدَّ
النَّاسِ
عَدَاوَةً
لِّلَّذِیْنَ
اٰمَنُوا
الْیَهُوْدَ
وَالَّذِیْنَ
اَشْرَكُوْا ۚ
وَلَتَجِدَنَّ
اَقْرَبَهُمْ
مَّوَدَّةً
لِّلَّذِیْنَ
اٰمَنُوا
الَّذِیْنَ
قَالُوْۤا
اِنَّا
نَصٰرٰی ؕ
ذٰلِكَ
بِاَنَّ
مِنْهُمْ
قِسِّیْسِیْنَ
وَرُهْبَانًا
وَّاَنَّهُمْ
لَا
یَسْتَكْبِرُوْنَ
۟
ایمان والوں کے ساتھ عداوت میں تم سب سے بڑھ کر یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان والوں کے ساتھ دوستی میں تم سب سے زیادہ ان لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں یہ اس ليے کہ ان میں عالم اور راہب ہیں اور اس ليے کہ وہ تکبر نہیں کرتے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
یہودیوں کا تاریخی کردار ٭٭…
یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور جعفر
یہودیوں کا تاریخی کردار ٭٭…
یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں جعفر بن ابوطا