وَقَالَتِ
الْیَهُوْدُ
یَدُ
اللّٰهِ
مَغْلُوْلَةٌ ؕ
غُلَّتْ
اَیْدِیْهِمْ
وَلُعِنُوْا
بِمَا
قَالُوْا ۘ
بَلْ
یَدٰهُ
مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ
یُنْفِقُ
كَیْفَ
یَشَآءُ ؕ
وَلَیَزِیْدَنَّ
كَثِیْرًا
مِّنْهُمْ
مَّاۤ
اُنْزِلَ
اِلَیْكَ
مِنْ
رَّبِّكَ
طُغْیَانًا
وَّكُفْرًا ؕ
وَاَلْقَیْنَا
بَیْنَهُمُ
الْعَدَاوَةَ
وَالْبَغْضَآءَ
اِلٰی
یَوْمِ
الْقِیٰمَةِ ؕ
كُلَّمَاۤ
اَوْقَدُوْا
نَارًا
لِّلْحَرْبِ
اَطْفَاَهَا
اللّٰهُ ۙ
وَیَسْعَوْنَ
فِی
الْاَرْضِ
فَسَادًا ؕ
وَاللّٰهُ
لَا
یُحِبُّ
الْمُفْسِدِیْنَ
۟
اور یہودنے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بند ہوگیا اور ان پر لعنت ہے اس کے سبب جو انہوں نے کہا بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ تو کھلے ہوئے ہیں وہ جیسے چاہے خرچ کرتا ہے اور یقینا اضافہ کرے گا ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر میں جو کچھ (اے نبی ﷺ نازل کیا گیا ہے آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اور ہم نے ان کے مابین قیامت تک کے لیے دشمنی اور بغض ڈال دیا ہے جب کبھی یہ آگ بھڑکاتے ہیں جنگ کے لیے اللہ اس کو بجھا دیتا ہے اور (پھر بھی) یہ زمین میں فساد مچانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں اور اللہ ایسے ُ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو ٭٭…
اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ ” یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند و بالا ہے “۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو ٭٭…
اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ ” یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر