اَلْیَوْمَ
اُحِلَّ
لَكُمُ
الطَّیِّبٰتُ ؕ
وَطَعَامُ
الَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْكِتٰبَ
حِلٌّ
لَّكُمْ ۪
وَطَعَامُكُمْ
حِلٌّ
لَّهُمْ ؗ
وَالْمُحْصَنٰتُ
مِنَ
الْمُؤْمِنٰتِ
وَالْمُحْصَنٰتُ
مِنَ
الَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْكِتٰبَ
مِنْ
قَبْلِكُمْ
اِذَاۤ
اٰتَیْتُمُوْهُنَّ
اُجُوْرَهُنَّ
مُحْصِنِیْنَ
غَیْرَ
مُسٰفِحِیْنَ
وَلَا
مُتَّخِذِیْۤ
اَخْدَانٍ ؕ
وَمَنْ
یَّكْفُرْ
بِالْاِیْمَانِ
فَقَدْ
حَبِطَ
عَمَلُهٗ ؗ
وَهُوَ
فِی
الْاٰخِرَةِ
مِنَ
الْخٰسِرِیْنَ
۟۠
آج تمھارے ليے سب ستھری چیزیں حلال کردی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا تمھارے ليے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے ليے حلال ہے اور حلال ہیں تمھارے ليے پاک دامن عورتیں مومن عورتوں میں سے اور پاک دامن عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی جب تم انھیں ان کے مہر دے دو اس طرح کہ تم نکاح میں لانے والے ہو، نہ اعلانیہ بدکاری کرو اور نہ خفیہ آشنائی کرو اور جو شخص ایمان کے ساتھ کفر کرے گا تو اس کا عمل ضائع ہوجائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
ذبیحہ کس نام اور کن ہاتھوں کا حلال ہے؟ ٭٭…
حلال و حرام کے بیان کے بعد بطور خلاصہ فرمایا کہ ” کل ستھری چیزیں حلال ہیں “، پھر یہود و نصاریٰ کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کی حلت بیان فرمائی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابوامامہ، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ، عطاء، حسن، مکحول، ابراہیم، نخعی، سدی، مقاتل بن حیان
ذبیحہ کس نام اور کن ہاتھوں کا حلال ہے؟ ٭٭…
حلال و حرام کے بیان کے بعد بطور خلاصہ فرمایا کہ ” کل ستھری چیزیں حلال ہیں “، پھر یہود و نصاریٰ کے ذبح کئے ہوئ